ڈانڈیلی 05/ جولائی (ایس او نیوز) ہوسپیٹ - میسور ریلوے لائن کے توسیعی منصوبے پر عمل در آمد کے لئے محکمہ جنگلات کے افسران نے کالی ٹائگر ریزرو فاریسٹ اور ہلیال ژون کے تینئی گھاٹ - کیاسل راک ریزرو فاریسٹ علاقہ میں ہزاروں درختوں کو کاٹنے کا جو حکم دیا تھا اس پر مرکزی ماحولیاتی کمیٹی نے روک لگادی ہے۔ حالانکہ اس حکم کے آنے تک بڑی عجلت میں سیکڑوں درخت کاٹے جاچکے ہیں ، اس کے باوجود اب بھی ہزاروں درخت کٹنے سے بچ گئے اس لئے عدالت کے حکم پر ماحولیاتی ماہرین نے راحت کی سانس لی ہے۔
ریلوے لائن توسیعی منصوبے کے تحت کالی ٹائگر ریزرو جنگلات کے کیاسل راک کے 9.57 ہیکٹر جنگلاتی علاقہ پر نئی لائن بچھانے کا کام ہونا ہے۔ اس کے لئے تقریباً 2097 درخت کاٹے جائیں گے۔ اس کے لئے 30/04/21 کو کرناٹکا ٹائیگر ریزرو (کے ٹی آر) کی طرف سے محکمہ ریلوے کو اجازت دی گئی تھی۔ اسی طرح ہلیال ژون میں 0.88 ہیکٹر علاقہ اس منصوبے کی زد میں آرہا ہے جس کے لئے یہاں پر 181 درختوں کو کاٹنے کی اجازت ہلیال محکمہ جنگلات کی طرف سے 28/04/21 کو دی گئی۔
عوام اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائگر کی مفقود ہوتی ہوئی آبادی کو بچانے کے لئے ان علاقوں کو محفوظ جنگلات میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پر ہر قسم کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں اور ان کی افزائش کے لئے یہ ایک مناسب اور اہم ترین علاقہ ہے۔ یہاں پر بہت سارے کم یاب پرندے اور حشرات الارض پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ ریلوے لائن کی وجہ سے اکثر یہاں کے جنگلی جانور ٹرین کی زد میں آکر ویسے ہی کٹتے رہتے ہیں۔ اب مزید یہاں سے نئی لائن گزرے گی تو پھر جانوروں کی حادثاتی موت میں بھی فطری طور پر اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ درختوں کو کاٹنے اور پہاڑوں کو کھودنے کی وجہ سے اس علاقہ میں زمین دھنسنے کے خطرناک معاملات سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لئے ماحولیات کے نقطہ نظر سے یہ ایک خطرناک اور نقصان دہ منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس پس منظر میں جنگلاتی درختوں کو بڑے پیمانے پر کاٹنے کی اجازت دینے کے خلاف کئی تنظیموں نے گوا اور کرناٹکا ہائی کورٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
ڈپٹی کنزوریٹر آف فاریسٹ اور ڈانڈیلی کالی ٹائگر ریزرو علاقہ کی ڈائریکٹر ماریہ ڈی کرستا راجو نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے اس منصوبے کی منظوری حاصل کی تھی۔ اسی بنیاد پر محکمہ جنگلات کی طرف سے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس پر سینٹرل ایمپاورڈ کمیٹی (سی ای سی) کی طرف سے اعتراض جتانے پر یہ حکم منسوخ کردیا گیا ہے۔
کالی بریگیڈ نامی تنظیم کے کنوینر روی ریڈکر کا کہنا ہے کہ جنگلاتی اور دیہی علاقوں میں صدیوں سے بسنے والوں کے لئے پینے کے پانی، بجلی کنکشن، سڑکوں کی تعمیر، رابطے کے راستے اور غریبوں کے دیگر چھوٹے موٹے مسائل حل کرنے کی راہ میں محکمہ جنگلات کے افسران ماحولیات اور قانون کا حوالہ دے کر رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ جبکہ سرمایہ دارانہ لابی کے مفادات پورا کرنے کے لئے ماحولیات مخالف منصوبے بنائے جارہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کے لئے تعاون کیا جاتا ہے۔ اس طرح سرکاری افسران اپنی جیب بھرنے کا کام کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ درخت کاٹنے کے لئے غیر قانونی طور پر عجلت کے ساتھ اجازت دینے والے محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف حکومت کی طرف سے سخت کارروائی کی جائے۔